مسئلہ کشمیر، پاکستان اوربھارت کے درمیان ریاستِ جموں و کشمیر کی ملکیت کا تنازع ہے
بھارت کا دعویٰ ہے کہ
"کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے"
جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ
جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ
بھارت کا دعویٰ اس قانونی بنیاد پر ہے کہ کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان سےآئے قبائلیوں سے نپٹنے کے لیے ہندوستان سے فوجی مدد کی شرط پر26اکتوبر1947ءکو بھارت کے ساتھ الحاق کا معاہدہ کیا۔
جبکہ
پاکستان کا مؤقف قانونی،انسانی حقوق، جغرافیائی، مذہبی، اوراخلاقی بنیادوں پر مبنی ہے
ذیل میں ہم چند ایسے دلائل پیش کریں گے جو بھارت کے دعویٰ کو جھوٹ کا پلندہ ثابت کرتے ہیں
1
"مسئلہ کشمیر تقسیمِ برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے"
تقسیم ہند کا منصوبہ جو 3 جون 1947 کو ماؤنٹ بیٹن نے پیش کیا دراصل 15 اگست تک دوخود مختارمملکتوں پاکستان اور بھارت کے قیام کا لائحہ عمل تھا ۔4 جون 1947 کو ایک سوال کے جواب میں ماؤنٹ بیٹن نے واضح طوربتایا گیا کہ شاہی ریاستیں پاکستان یا بھارت سے الحاق کرنےیا اپنی موجودہ حیثیت برقرار رکھنےمیں بااختیار ہوں گی۔ قیامِ پاکستان کے وقت 635 شاہی ریاستیں تھیں۔ 15 اگست 1947 تک ان ریاستوں میں اکثریت نے تقسیم ہند کے منصوبے کی اِس شق کے مطابق بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کیساتھ الحاق کا فیصلہ کر لیا۔ حیدر آباد دکن، جموں وکشمیر،مناوادراور جونا گڑھ(بشمول ماتحت ریاستوں منگرول اور بابری آباد کے) کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکیں۔
تقسیم ہند کا منصوبہ جو 3 جون 1947 کو ماؤنٹ بیٹن نے پیش کیا دراصل 15 اگست تک دوخود مختارمملکتوں پاکستان اور بھارت کے قیام کا لائحہ عمل تھا ۔4 جون 1947 کو ایک سوال کے جواب میں ماؤنٹ بیٹن نے واضح طوربتایا گیا کہ شاہی ریاستیں پاکستان یا بھارت سے الحاق کرنےیا اپنی موجودہ حیثیت برقرار رکھنےمیں بااختیار ہوں گی۔ قیامِ پاکستان کے وقت 635 شاہی ریاستیں تھیں۔ 15 اگست 1947 تک ان ریاستوں میں اکثریت نے تقسیم ہند کے منصوبے کی اِس شق کے مطابق بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کیساتھ الحاق کا فیصلہ کر لیا۔ حیدر آباد دکن، جموں وکشمیر،مناوادراور جونا گڑھ(بشمول ماتحت ریاستوں منگرول اور بابری آباد کے) کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکیں۔
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد کراچی سے 480 کلومیٹرسمند ری فاصلے پر ہندو اکثریت کی ریاست جوناگڑھ کے مسلمان حکمران(مہابت خان سوم) نےاپنی ریاست کا الحاق پاکستان سے کرنے کا اعلان کردیا۔15 ستمبر 1947 کوحکومتِ پاکستان نے یہ الحاق منظور کرلیا۔25 ستمبر 1947 کو مناوادر کی ریاست کا بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کا معاہدہ طے پایا۔
بھارت نے ان معاہدوں کو جغرافیائی اور ہندو اکثریت کی بنیادوں پرتسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ان کا الحاق بھارت کے ساتھ ہونا چاہیے نہ کہ پاکستان کیساتھ۔ اسکے برعکس مسلم اکثریت کی ریاست جموں و کشمیر کے معاملے میں بھارت کے یہ پیمانے بدل گئےحالانکہ کشمیری عوام کی مسلم نمائندہ جماعت مسلم کانفرنس کئی ماہ پہلے 19 جولائی 1947 کو کشمیر کے پاکستان کیساتھ الحاق کا مطالبہ کر چکی تھی۔
2
کشمیرکے حکمران راجہ ہری سنگھ نے اپنی ریاست کی خود مختارشاہی حثیت برقرار رکھنے کا عزم کیا اور پاکستان کے ساتھ 15 اگست 1947ء کو STAND STILL کا معاہدہ کیا۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ اس معاہدے کو ختم کیے بغیر کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کا معاہدہ غیر قانونی ہے
اگرچہ کشمیر کی بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویزمشکوک حیثیت کی حامل ہیں۔لیکن بفرضِ محال اگر مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر 1947ء کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر بھی دیئے تھے تو یہ بات جان لینی چاہیے کہ اس واقعے سے دو روز قبل، 24 اکتوبر1947ء کو آزاد کشمیر، گلگت و دیگر شمالی علاقہ جات ہری سنگھ کے دائرۂ اختیار سے نکل چکے تھے، اس لیے ہری سنگھ ان علاقوں کی قسمت کے فیصلے کا حق نہ رکھتا تھا
اگرچہ کشمیر کی بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویزمشکوک حیثیت کی حامل ہیں۔لیکن بفرضِ محال اگر مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر 1947ء کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر بھی دیئے تھے تو یہ بات جان لینی چاہیے کہ اس واقعے سے دو روز قبل، 24 اکتوبر1947ء کو آزاد کشمیر، گلگت و دیگر شمالی علاقہ جات ہری سنگھ کے دائرۂ اختیار سے نکل چکے تھے، اس لیے ہری سنگھ ان علاقوں کی قسمت کے فیصلے کا حق نہ رکھتا تھا
3
ماؤنٹ بیٹن نےدہلی میں ریڈکلف حد بندی کمیشن کے نتائج 16 اگست 1947ء کو پاکستان اور بھارت کو سونپے۔یہ نتائج 12 اگست تک مکمل ہوچکے تھے لیکن چونکہ بدنیّتی پر مبنی تھے،اس لیے ان اعلان قیام پاکستان کے بعدکیا گیا۔اِن نتائج کے مطابق پاکستان کوکئی مسلم اکثریتی علاقوں سے محروم کر دیا گیا مثلاً بنگال میں ضلع مالدہ ،ضلع مرشد آباد اورکریم گنج کے اضلاع مسلم اکثریت کے باوجود بھارت میں شامل کیے گئے۔ پنجاب میں تحصیل گرداس پور،تحصیل بٹالہ،تحصیل قصور کا کچھ حصہ،تحصیل زیرہ ،تحصیل فیروزپور ،تحصیل ناکودار ،تحصیل جلندھر ،تحصیل اجنالہ۔ اس نا انصافی کی بدولت ایک تو ریاست کپور تھلہ کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا امکان ختم ہو گیا اوردوسرا بھارت کو ریاست جموں و کشمیر تک رسائی حاصل مل گئی
4
تقسیم ہند کے وقت ریاست جموں و کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ اور قبائلی حملہ کے حوالے سے تاریخ دانوں اورو قائع نگاروں میں خاصا اختلاف ہے۔ اکثر مورخین بشمول کشمیری راہنماؤں نے بھی کسی حد تک اس تھیوری کو تسلیم کیا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان کی ایما پرآئے قبائلی جنگجوؤں سے نپٹنے کے لیے ہندوستان سے فوجی مدد مانگی ۔ جس کے جواب میں ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے د ستاویز الحاق پر دستخط کرنے کی شرط رکھی اور اس کے نتیجے میں نظم و نسق کو بحال کرنے کی خاطر 27اکتوبر 1947کو ہندوستانی فوج سرینگر میں وارد ہوئی۔
اس بیانیہ کے مطابق اگر قبائلی حملہ نہ کرتے تو مہاراجہ ریاست کو آزاد مملکت کے طورپر تسلیم کروانے کے لیے تلا پڑا تھا۔ شیخ محمد عبداللہ کی خود نوشت سوانح حیات " آتش چنار" ہو یا ن ان کے دست راست مرزا محمد افضل بیگ کی کتاب "خاک ارجمند "یا سابق وزیر اعلیٰ سید میر قاسم کی "داستان حیات"…سبھی لیڈروں نے ا س تھیوری کو مستعار لیا ہے۔ مگر حا ل ہی میں جواہر لال اور اندارا گاندھی کے ایک معتمد خاص آنجہانی جی پارتھا سارتھی کی یاداشتوں پر مشتمل ایک کتاب نے اس تھیوری کی ہوا نکال دی ہے۔ کتاب کو ان کے صاحبزادے اشوک پارتھا سارتھی نے ترتیب دیا ہے، جو خود بھی ہندوستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ۔جی پارتھا سارتھی کی یاداشتوں پر مشتمل کتابGP:1915-1995 کے مطابق قبائلی حملہ سے ایک ماہ قبل یعنی 23ستمبر 1947 کو ہی کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی بساط بچھ چکی تھی۔ مہاراجہ کے تذبذب کو ختم کرنے کے لیے نہرو نے گوپال سوامی آئینگر(جی پارتھا سارتھی کے والد) کو ایک خفیہ مشن پر سرینگر روانہ کیا تھا۔ پارتھا سارتھی کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے سرینگر میں دو دن قیام کیا او راس دوران وہ مہاراجہ کو قائل کروانے میں کامیاب ہوگئے کہ بطور ایک ہندو راجہ،ہری سنگھ کا مستقبل ہندوستان میں ہی محفوظ ہے
اس بیانیہ کے مطابق اگر قبائلی حملہ نہ کرتے تو مہاراجہ ریاست کو آزاد مملکت کے طورپر تسلیم کروانے کے لیے تلا پڑا تھا۔ شیخ محمد عبداللہ کی خود نوشت سوانح حیات " آتش چنار" ہو یا ن ان کے دست راست مرزا محمد افضل بیگ کی کتاب "خاک ارجمند "یا سابق وزیر اعلیٰ سید میر قاسم کی "داستان حیات"…سبھی لیڈروں نے ا س تھیوری کو مستعار لیا ہے۔ مگر حا ل ہی میں جواہر لال اور اندارا گاندھی کے ایک معتمد خاص آنجہانی جی پارتھا سارتھی کی یاداشتوں پر مشتمل ایک کتاب نے اس تھیوری کی ہوا نکال دی ہے۔ کتاب کو ان کے صاحبزادے اشوک پارتھا سارتھی نے ترتیب دیا ہے، جو خود بھی ہندوستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ۔جی پارتھا سارتھی کی یاداشتوں پر مشتمل کتابGP:1915-1995 کے مطابق قبائلی حملہ سے ایک ماہ قبل یعنی 23ستمبر 1947 کو ہی کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی بساط بچھ چکی تھی۔ مہاراجہ کے تذبذب کو ختم کرنے کے لیے نہرو نے گوپال سوامی آئینگر(جی پارتھا سارتھی کے والد) کو ایک خفیہ مشن پر سرینگر روانہ کیا تھا۔ پارتھا سارتھی کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے سرینگر میں دو دن قیام کیا او راس دوران وہ مہاراجہ کو قائل کروانے میں کامیاب ہوگئے کہ بطور ایک ہندو راجہ،ہری سنگھ کا مستقبل ہندوستان میں ہی محفوظ ہے
5
کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کا معاہدہ کئی وجوہات سے مشکوک حیثیت کا حامل ہے۔ برطانوی ذرائع کی حالیہ تحقیق کے مطابق ہری سنگھ 26 اکتوبر کی شام تک جموں نہیں پہنچے تھے اورناقص پرواز کی حالت کی وجہ سے وی پی مینن 27 اکتوبر کی صبح تک جموں نہیں پہنچ سکے تھے جبکہ اس وقت تک ہندوستانی فوج سری نگر پہنچ رہی تھی۔ کئی وقائع نگاروں کے بقول جو وقت اس دستاویز پر دستخط کرنے کادرج ہے، اس وقت مہاراجہ اور ان کا قافلہ قبائلیوں کے خوف سے سرینگر چھوڑ کر پیر پنچال پہاڑوں کے پیچ در پیچ راستو ں سے جموں کی طرف فرار ہو رہا تھا۔ اس کی فوج 22 اکتوبر کو اوڑی میں شکست سے دوچار ہوگئی تھی۔ اس کا کمانڈر ان چیف بریگیڈیر راجندر سنگھ ہلاک ہوچکا تھا۔بھارت نےکشمیر کے ہندو حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے نام سےالحاق کی جعلی دستاویز تیار کیں اور اسے بنیاد بنا کر 27 اکتوبر 1947ء کو اپنی فوجیں کشمیر میں اتاریں۔
آسٹریلین محقق کرسٹوفر سنیڈن نے بھی قبائلی تھیوری کو مسترد کرکے یہ انکشاف کیا تھا کہ مہاراجہ، نہرو اور سردار پٹیل کے درمیان خفیہ روابط تھے۔ آسٹریلین مصنف کے مطابق اگرچہ یہ سچ ہے کہ 22اکتوبر کو ڈوگرہ فوج کو شکست دینے کے بعد قبائلی دستوں نے سرینگر کی طرف مارچ کرنے کے بجائے بارہمولہ اور سوپور میں پورا ایک ہفتہ لوٹ مار، غیر مسلموں خاص طور پر سکھوں کو سبق سکھانے میں ضائع کیا۔ مگر یہ بھی ایک حقیقیت ہے کہ سرینگر ایئر پورٹ پر ہندوستانی ملٹری انٹلی جنس کے اہلکار پہلے ہی تعینات کئے جا چکے تھے۔ سنیڈن کے بقول قبائلی حملہ کا ماخذ اگست 1947کو مہاراجہ کے خلاف پونچھ کے مسلمانوں کی بغاوت تھی۔
آسٹریلین محقق کرسٹوفر سنیڈن نے بھی قبائلی تھیوری کو مسترد کرکے یہ انکشاف کیا تھا کہ مہاراجہ، نہرو اور سردار پٹیل کے درمیان خفیہ روابط تھے۔ آسٹریلین مصنف کے مطابق اگرچہ یہ سچ ہے کہ 22اکتوبر کو ڈوگرہ فوج کو شکست دینے کے بعد قبائلی دستوں نے سرینگر کی طرف مارچ کرنے کے بجائے بارہمولہ اور سوپور میں پورا ایک ہفتہ لوٹ مار، غیر مسلموں خاص طور پر سکھوں کو سبق سکھانے میں ضائع کیا۔ مگر یہ بھی ایک حقیقیت ہے کہ سرینگر ایئر پورٹ پر ہندوستانی ملٹری انٹلی جنس کے اہلکار پہلے ہی تعینات کئے جا چکے تھے۔ سنیڈن کے بقول قبائلی حملہ کا ماخذ اگست 1947کو مہاراجہ کے خلاف پونچھ کے مسلمانوں کی بغاوت تھی۔
سیاسی تناظر میں بھی الحاق کی دستاویز کے جعلی ہونے کے امکان ہیں کیونکہ راجہ ہری سنگھ کشمیر کے مستقبل میں شیخ عبداللہ کا کسی قسم کا کردار نہیں چاہتا تھا جبکہ الحاق کے اعلان کے ساتھ جڑی رائے شماری کا وعدہ ہری سنگھ کے ہاتھ کاٹ کر شیخ عبداللہ کو دینے کے مترادف تھا
6
ماؤنٹ بیٹن اور نہرونے الحاق کو 'عبوری' قراردیا تھا۔ الحاق کے ڈرامے کے غیراخلاقی ہونے کا خود بھارتی حکمرانوں کو بھی احساس تھا جس کا اندازہ بھارت کے انگریز گورنرجنرل لارڈ مونٹ بیٹن کے اس خط سے بھی ہوتا ہے جو اس نے مہاراجہ ہری سنگھ کے نام سے پیش کردہ الحاق کی جعلی درخواست کی منظوری دیتے ہوئے اسکے نام لکھا
ملاحظہ فرمائیے:
" جس ریاست کا الحاق کا مسئلہ متنازعہ ہو ، اسکے الحاق کا فیصلہ وہاں کے عوام کی خواہشات کی مطابق ہونا چاہیے، میری حکومت یہ چاہتی ہے کہ ریاست میں نظم ونسق کی بحالی اور ریاست کو حملہ آوروں سے خالی کرانے کے بعد الحاق کا مسئلہ عوام کی آرزو اور رائے کے مطابق طے کیا جائے"
ملاحظہ فرمائیے:
" جس ریاست کا الحاق کا مسئلہ متنازعہ ہو ، اسکے الحاق کا فیصلہ وہاں کے عوام کی خواہشات کی مطابق ہونا چاہیے، میری حکومت یہ چاہتی ہے کہ ریاست میں نظم ونسق کی بحالی اور ریاست کو حملہ آوروں سے خالی کرانے کے بعد الحاق کا مسئلہ عوام کی آرزو اور رائے کے مطابق طے کیا جائے"
7
بھارت کے بانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی طرف سے وزیراعظم پاکستان کے نام اپنے ایک ٹیلی گرام مورخہ31 اکبوتر 1947ء میں بھی کروائی گئی یادہانی ملاحظہ ہو:" ہمارا یہ وعدہ کہ امن وامان قائم ہوتے ہی ہم اپنی فوجوں کو واپس بلالیں گے اور ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ریاستی عوام کی آزادانہ مرضی پر چھوڑ دیا جائے گا۔ صرف آپ ہی کے سامنے نہیں بلکہ ریاست کے عوام اور پوری دنیا کے سامنے بھی ہے"
8
"اقوامِ متحدہ و جمہوری اصولوں کے مطابق ہر قوم کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے"
ہندوستان اس بنیادی اصول کی بھی خلاف ورزی کرتا دکھائی دیتا ہے۔
ممتاز برطانوی مصنف لارڈ برڈوڈ کے مطابق دسمبر 1947ء میں کشمیر میں بھارتی فوجیں سخت مشکلات سے دوچار تھیں۔
بھارتی حکمرانوں کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود مسلم اکثریت نے بھارتی سامراج کے غاصبانہ تسلط کو ایک لمحے کیلئے بھی تسلیم نہیں کیا اور اس کے خلاف جہاد جاری رکھا۔ اور ریاست کے ایک تہائی سے زیادہ حصے کو بھارتی تسلط سے آزاد کرا لیا۔ چنانچہ جہاد آزادی کی پے در پے کامیابیوں سے بھارت کو صاف طور پر دکھائی دینے لگا کہ اگر جہاد کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں ریاست کا باقی ماندہ حصہ بھی بہت جلد اسکے تسلط سے نکل جائیگالہٰذابھارت اپنے متوقع انجام کو دیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا۔ یکم جنوری 1948ء کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ (35) کے تحت یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا۔
ہندوستان اس بنیادی اصول کی بھی خلاف ورزی کرتا دکھائی دیتا ہے۔
ممتاز برطانوی مصنف لارڈ برڈوڈ کے مطابق دسمبر 1947ء میں کشمیر میں بھارتی فوجیں سخت مشکلات سے دوچار تھیں۔
بھارتی حکمرانوں کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود مسلم اکثریت نے بھارتی سامراج کے غاصبانہ تسلط کو ایک لمحے کیلئے بھی تسلیم نہیں کیا اور اس کے خلاف جہاد جاری رکھا۔ اور ریاست کے ایک تہائی سے زیادہ حصے کو بھارتی تسلط سے آزاد کرا لیا۔ چنانچہ جہاد آزادی کی پے در پے کامیابیوں سے بھارت کو صاف طور پر دکھائی دینے لگا کہ اگر جہاد کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں ریاست کا باقی ماندہ حصہ بھی بہت جلد اسکے تسلط سے نکل جائیگالہٰذابھارت اپنے متوقع انجام کو دیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا۔ یکم جنوری 1948ء کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ (35) کے تحت یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا۔
سلامتی کونسل نے اس مسئلے پر طویل بحث و تمحیص کے بعد 21اپریل 1948ء کو اس کے حل کیلئے 5 ممبروں پر مشتمل اقوام متحدہ کا کمیشن برائے ہندوپاک قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیشن نے جو 7 مئی 1948 کو معرض وجود میں آیا تھا کی سفارشات کی بنیاد پر سلامتی کونسل نے اپنی ابتدائی قرارداد 13 اگست 1948ء کو منظور کی۔
" کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی منشاء اور امنگوں کے مطابق کثرتِ رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیئے"
اس قرار داد پر عمل درآمد کے طریقہ کار کے مبہم امور کو واضح کرنے کے لیے سلامتی کونسل نے 5 جنوری 1949ء کو ایک اور قرارداد منظور کی۔اِن قراردادوں پر بھارت نے آج تک عمل نہیں کیا۔ بھارت کا اب یہ موقف ہے کہ

