صفحات

تلاش کریں

مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں

 

17 جنوری 1948ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 38)

  1. پاکستان اور بھارت کے نمائندے ایسے بیانات دینے سے اجتناب کریں، جن سے حالات مزید کشیدہ ہوں۔ 
  2. تنازع کشمیر سلامتی کونسل میں زیر غور ہے۔ 

20 جنوری 1948ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 39)

  1. تنازع کشمیر کے حل کے لیے تین رکنی کمیشن کا قیام 
  2. کمیشن میں ایک ایک رکن بھارت اور پاکستان اور تیسرے رکن کا دونوں کی باہمی رضا مندی سے انتخاب 
  3. کمیشن کا کام سلامتی کونسل کو مشترکہ طور پر خطے میں امن قائم کرنے کے لیے سفارشات دینا تھا۔ 

21 اپریل 1948ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر47)

  1. قرار داد نمبر 39 کے تحت بنائے گئے خصوصی کمیشن کے اراکین کی تعداد بڑھا کر پانچ 
  2. ارجنٹائن، بیلجیئم، کولمبیا، چیکو سلواکیہ اور امریکہ کے نمائندے بھی کمیشن میں شامل 
  3. کمیشن خطے میں جا کر دونوں ممالک کے درمیان امن بحال کرائے اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے منعقد کرانے کے انتظامات کرے 
  4. پاکستان اپنے ان شہریوں کو جو کشمیر میں لڑنے گئے ہیں، واپس بلائے 
  5. بھارت اپنی فوج میں مرحلہ وار کمی کرے اور کشمیر میں اتنی فوج ہی رکھے جتنی امن و امان کے قیام کے لیے درکار ہے 
  6. دونوں ممالک اس بات کو یقینی بنائیں کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے کیا جائے 

3 جون 1948ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر51)

  1. کمیشن متنازع علاقوں میں جا کر سلامتی کونسل کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کرائے 
  2. پاکستان کے وزیر خارجہ کی طرف سے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط کو قرارداد کا حصہ بنایا جائے 

14 مارچ 1950ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر80)

  1. اقوام متحدہ کے کمیشن اور نمائندہ جنرل مکنوٹن کی رپورٹس 
  2. دونوں ممالک جنگ بندی اور جموں و کشمیر کو فوج سے پاک علاقہ رکھنے کے معاہدے پر قائم رہیں 
  3. بھارت اور پاکستان اپنی فوجیں کنٹرول لائن تک پیچھے ہٹالیں 
  4. ۔ شمالی علاقہ جات کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام 
  5. استصواب رائے کے انعقاد کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے نمائندہ منتخب کرنے کا فیصلہ۔ 

31 مارچ 1951ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر91)

  1. نمائندہ اقوام متحدہ سر اوون ڈکسن کی رپورٹ میں کشمیر میں استصواب رائے کے انعقاد میں حائل اختلافات بنا پر سلامتی کونسل کی طرف سے سر اوون ڈکسن کا استعفی منظور 
  2. متبادل تین ماہ میں رپورٹ پیش کریں 
  3. پاکستان اور بھارت اقوام متحدہ کے نمائندے سے تعاون کریں 
  4. ملٹری مبصرین کا گروپ جنگ بندی پر نظر رکھے گا۔​ 

​10نومبر 1951ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر96)

  1. اقوام متحدہ کے نمائندے فرینگ گراہم کی رپورٹ اور سلامتی کونسل میں خطاب 
  2. بھارت اور پاکستان کی کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلانے، تنازع کشمیر کو باہمی رضا مندی سے حل کرنے اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی میں استصواب رائے کے قیام پر رضا مندی 

​23 دسمبر 1952ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر98)

  1. بھارت اور پاکستان ایک خاص تعداد میں کنٹرول لائن پر اپنی فوجیں تعینات رکھ سکیں گے 
  2. پاکستان کے لیے یہ تعداد 3000 سے 6000 جبکہ بھارت کے لیے یہ تعداد 12000 سے 18000 ہے 

​24 جنوری 1957ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر122)

  1. آل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی قانون ساز اسمبلی متنازع جموں و کشمیر کے مستقبل سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ 
  2. سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 91 کے مطابق جموں و کشمیر کا علاقہ متنازع ہے۔ 

21 فروری 1957ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر123)

صدرسلامتی کونسل گنار جارنگ پاکستان اور بھارت کا دورہ کریں اور اس تنازع کے حل کے لیے اپنی تجاویز دیں۔

2 دسمبر 1957ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر126)

  1. صدر سلامتی کونسل گنار جارنگ کی رپورٹ 
  2. بھارت اور پاکستان کو امن سے رہنے 
  3. نمائندہ اقوام متحدہ پاکستان اور بھارت کا دورہ کریں اور اس تنازع میں مزید پیشرفت کے لیے اقدامات تجویز کریں۔ 

4 ستمبر1965ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر209)

  1. بھارت اور پاکستان فوری جنگ بندی کریں 
  2. دونوں ممالک اقوام متحدہ کے ملٹری مبصرین کے گروپ کے ساتھ تعاون کریں 
  3. سیکریٹری جنرل کو تین روز میں رپورٹ پیش کریں 

6 ستمبر1965ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر210)

  1. اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ 
  2. بھارت اور پاکستان جنگ بندی کریں اور اپنی فوجیں پانچ اگست 1965 والی پوزیشنز پر واپس جائیں 
  3. تنازع کشمیر کا مستقل بنیادوں پر جائزہ لین 

20 ستمبر1965ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر211)

22 ستمبر کو سات بجے (جی ایم ٹی) تک جنگ بندی کی جائے اور دونوں ممالک کی فوجیں پانچ اگست سے پہلے کی پوزیشنز پر چلی جائیں

27 ستمبر1965ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر214)

  1.  بھارت اور پاکستان کی طرف سے جنگ بندی نا کرنے پر تشویش کا اظہار
  2.  فریقین جنگ بندی معاہدے پر عمل کریں۔

5 نومبر1965ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر215)

  1. پاکستان اور بھارت جنگ بندی پر عمل کریں
  2.  دونوں ممالک کے نمائندوں سے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کر کے فوجوں کی واپسی کا لائحہ عمل تشکیل دیں

21 دسمبر1971ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر307)

بھارت اور پاکستان کے نمائندوں سے بات چیت کے بعد سلامتی کونسل چاہتی ہے کہ فوجوں کی واپسی مکمل ہونے تک جموں و کشمیر میں مکمل جنگ بندی ہو۔

6 جون 1998ء (سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر1172)

  1. بھارت اور پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکوں کے تجربات کی مذمت
  2. دونوں ممالک کو مزید تجربات نہ کریں
  3. سلامتی کونسل پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کشمیر کو حل کرانے میں مدد کے لیے تیار