11 دسمبر1845ء
سکھ سلطنت ( لاہور دربار) اوربرطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان پہلی انگلو- سکھ جنگ کا آغاز
9 مارچ 1846ء
معاہدہ لاہور- سکھ سلطنت/لاہور دربار کی طرف سے شکست تسلیم ، جموںوکشمیر اور ہزارہ کے علاقوں سے دستبردار اورانگریز سرکارکو 50 لاکھ روپے تاوانِ جنگ دینے پر رضامند
دستخط:
•سات سالہ دلیپ سنگھ بہادر (مہاراجہ رنجیت سنگھ کا آخری جانشین)
• سر ہنری ہارڈنگ (گورنر جنرل کمپنی راج)
• لاہور دربار کے سات ارکان اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے دو افسران
16 مارچ 1846ء
معاہدہ امرتسر-سکھ دربار پر عائدکردہ تاوانِ جنگ کا کچھ حصہ (تقریباً 75 لاکھ روپےنانک شاہی بشمول سالانہ خراج) ادا کر نے پروادی کشمیر اور ہزارہ کے علاقےجموں کے راجہ گلاب سنگھ ڈوگرہ کو فروخت۔ جموں وکشمیر کے نام سے نئی ریاست تشکیل
19 نومبر 1846ء
نوتشکیل شُدہ ریاستِ جموں و کشمیر پرمہاراجہ گلاب سنگھ کی باقاعدہ حکومت کا آغاز
20 فروری 1856ء
ریاستِ جموں و کشمیر پرمہاراجہ رنبیر سنگھ کی حکومت کا آغاز
12دسمبر 1885ء
ریاستِ جموں و کشمیر پرمہاراجہ پرتاب سنگھ کی حکومت کا آغاز
23 ستمبر 1925ء
ریاستِ جموں و کشمیرپرمہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کا آغاز
3 جون 1947ء
تقسیم ہند کامنصوبہ:دو خود مختارمملکتوں، پاکستان اور بھارت کے قیام کا لائحہ عمل
شاہی ریاستیں پاکستان یا بھارت سے الحاق کرنےیا اپنی موجودہ حیثیت برقرار رکھنےمیں بااختیار ہوں گی
18 جولائی 1947ء
قانونِ تقسیم ِ ہند برطانوی پارلیمنٹ سے منظور
14 اگست 1947ء
قیامِ پاکستان
15 اگست 1947ء
بھارت کی خود مختاری
15 اگست 1947ء
•منگرول، مناواور،جونا گڑھ اورحیدر آباد دکن کی طرح کشمیر کے حکمران راجہ ہری سنگھ کا اپنی ریاست کی خود مختارشاہی حثیت برقرار رکھنے کا عزم
پاکستان کے ساتھ STAND STILL کا معاہدہ
16 اگست 1947ء
ماؤنٹ بیٹن نےدہلی میں ریڈکلف حد بندی کمیشن کے نتائج پاکستان اور بھارت کو سونپے
ستمبر 1947ء
- پونچھ میں ظالمانہ ٹیکسز کا نفاذ
- ہری سنگھ –نہرو گٹھ جوڑ اور ریاست ِ جموںوکشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی خبریں
- ہری سنگھ کی برطانوی فوج میں موجود مسلمان سپاہیوں سے اسلحہ ضبط اور مقامی ہندوآبادی میں تقسیم
- ہری سنگھ کے خلاف بغاوت اور داخلی خانہ جنگی
21-22اکتوبر 1947ء
کشمیر میں جاری داخلی خانہ جنگی میں پاکستان سے قبائلی لشکر بھی شامل ہو گئے۔
26 اکتوبر 1947ء
کشمیر میں بغاوت کے خلاف مددکرنے کی شرط پرمہاراجہ کا بھارت کے ساتھ الحاق
27 اکتوبر 1947ء
بھارت نے اپنی فوجیں ہوائی جہازوں کے ذریعے سری نگر میں اتار دیں
- پاکستان کا STAND STILL معاہدہ کی موجودگی میں اور الحاق کے جعلی ہونے سے متعلق شواہدات کی بنیاد پر الحاق کو ماننے سے انکار
- پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ کا آغاز
یکم جنوری 1948ء
بھارت نے مسئلہ کشمیر پر اقوام ِ متحدہ سے مدد مانگ لی ۔
5 فروری 1948ء
اقوام متحدہ کا ایک قرار داد کے ذریعے فوری جنگ بندی کا مطالبہ تاکہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جا سکے ۔
یکم جنوری 1949ء
اقوامِ متحدہ نے جنگ بندی کراتے ہوئے دونوں ممالک کی فوجوں کو جنگ بندی لائن کا احترام کرنے کا پابند کیا اور وہاں رائے شماری کرانے کا اعلان کیا ۔
26 جنوری 1950ء
بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کا اضافہ جس میں ریاست جموں و کشمیر کو دفاع ، خارجہ اور مواصلات کے علاوہ خود مختار حیثیت دی گئی ۔
اکتوبر 1950ء
شیخ عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس کی طرف سے جموں و کشمیر میں انتخابات کا مطالبہ کیا تاکہ ریاستی اسمبلی کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرے ۔
30 مارچ 1951ء
اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے کشمیر میں انتخابی عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی رائے شماری کا متبادل نہیں ہے اور نہ ہی کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے ساتھ ہی ایک نمائندہ مقرر کرنے اور کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کا اعلان کیا مگر اس پر عمل در آمد نہ ہو سکا ۔
ستمبر 1951ء
کشمیر کی اسمبلی کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے تمام 75 نشستیں بلا مقابلہ حاصل کر لیں۔
31 اکتوبر 1951ء
شیخ عبداللہ کی ریاستی اسمبلی میں پہلی تقریر۔ ریاست کے بھارت کے ساتھ الحاق کے حق میں دلائل دیئے۔
جولائی 1952ء
شیخ عبدااللہ نے دہلی معاہدے پر دستخط کر دیئے جس کے تحت انڈیا کے زیرانتظام ریاست کو داخلی خودمختاری دی جائے گی۔
جولائی 1953ء
سائما پرشاد مکر جی کی کشمیر کے بھارت سے مکمل الحاق کی تحریک ردِعمل کے طور پر شیخ عبداللہ کی طرف سے کشمیر کی مکمل خود مختاری کی تجویز
8 اگست 1953ء
شیخ عبدالاللہ بطور وزیراعظم فارغ
گرفتار کر کے بھارت میں قید کر دیا گیا اور ان کی جگہ بخشی غلام محمد کو وزیر اعظم بنا کر مظاہرین کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا ٹاسک سونپا گیا۔
گرفتار کر کے بھارت میں قید کر دیا گیا اور ان کی جگہ بخشی غلام محمد کو وزیر اعظم بنا کر مظاہرین کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا ٹاسک سونپا گیا۔
17-20 اگست 1953ء
بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے درمیان دہلی میں ملاقات ہوئی جس میں اپریل 1954 کے آخر تک وہ کشمیر میں رائے شماری کے لیے ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے پر متفق ہو گئے ۔تاہم جیسے ہی پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک تعلقات گہرے ہوئے تو بھارت نے اس مسئلے کو بھی سرد جنگ کا حصہ قرار دیتے ہوئے رائے شماری سے انکار کر دیا۔
فروری 1954ء
کشمیر کی اسمبلی نے بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا۔
14 مئی 1954ء
آئینی حکم نامہ 1954 جس کا تعلق ریاست جموں و کشمیر سے تھا اسے لاگو کر دیا گیا جو دہلی معاہدے کومنسوخ کرتے ہوئے ریاست کو بھارتی عمل داری میں دیتے ہوئے تمام شہری آزادیوں کو ختم کرتا تھا۔
14 جنوری 1957ء
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بار پھر 1951 کی قرارداد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اسمبلی کسی طور بھی کشمیر کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کا اختیار نہیں رکھتی اور نہ ہی یہ رائے شماری کا متبادل ہے۔
26 جنوری 1957ء
ریاستی اسمبلی نے جموں و کشمیر کا آئین نافذ کیا جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔
9 اگست 1955ء
رائے شماری محاذ قائم کیا گیا جس نے شیخ عبداللہ کی رہائی اور اقوام ِ متحدہ کی زیر نگرانی کشمیر میں رائے شماری کا مطالبہ کیا۔
20 اکتوبر تا 20 نومبر 1962ء
لداخ میں بھارت اور چین کے مابین ایک سرحدی تنازعے نے جنگ کی شکل اختیار کر لی جس کے نتیجے میں لداخ کے ایک بڑے علاقے پر چین قابض ہو گیا۔مارچ 1965:
بھارتی پارلیمنٹ نے ایک بل پاس کیا جس کے تحت کشمیر کو بھارت کو صوبہ قرار دیتے ہوئے بھارت کو وہاں گورنر تعینات کرنے، کشمیر میں حکومت کو برطرف کرنے اور اسے آئین سازی سے روکنے کے اختیار حاصل ہو گئے ۔
23 اگست تا سمبر 1965:
پاکستان اور بھارت کے درمیان دوسری جنگ چھڑ گئی جس نے 1949 کے فائر بندی معاہدے کو ختم کر دیا۔
10 جنوری 1966:
بھارت اور پاکستان کے مابین تاشقند معاہدے پر دستخط ہو گئے جس کے تحت دونوں ممالک اپنی اپنی افواج کو جنگ سے پہلے والی پوزیشنوں پر لانے میں متفق ہو گئے ۔
3-16 دسمبر 1971:
پاکستان اوربھارت میں جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا ۔
فروری 1972:
محاذ برائے رائے شماری پر پابندی لگا دی گئی کہ وہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات نہیں لڑ سکتا۔
2 جولائی 1972:
پاکستان اور بھارت کے درمیان شملہ معاہدہ ہو ا جس میں اقوام ِ متحدہ کی فائر بندی لائن کو لائن آف کنٹرول قرار دیا گیا مزید یہ کہ اس معاہدے کی رو سے فریقین اس مسئلے کو دو طرفہ مذاکرات سے حل کریں گے ۔
13 نومبر 1974:
شیخ عبداللہ کو رہا کر کے اسے بطور وزیر اعلی ٰ بحال کر دیا گیا ۔جبکہ اس کے نائب وزیر اعلیٰ نے بھارت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر دیئے جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر بھارت کاآئینی حصہ ہو گا اس طرح وہ 1953 میں اپنے خود مختاری کے دعوے سے پھر گئے ۔
23 مئی 1977:
شیخ عبداللہ نے دھمکی دی کہ بھارت کے ساتھ الحاق اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک بھارت آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو داخلی خود مختاری نہیں دیتا ۔
8 ستمبر 1982:
شیخ عبداللہ انتقال کر گئے جس کے بعد ان کے بیٹے فاروق عبداللہ نے قیادت سنبھال لی ۔
اپریل 1984:
بھارت نے سیاچین گلیشئر پر قبضہ کر لیا ۔
جون 1984:
بھارت کے تعینات کردہ گورنر اور ہندو قوم پرست رہنما جگموہن نے فاروق عبداللہ کو معطل کر کے نیشنل کانفرنس کے غلام محمد شاہ کو وزیراعلیٰ نامزد کر دیا جس سے کشمیر میں مظاہرے پھوٹ پڑے جس پر غلام محمد شاہ نے کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا ۔
7 مارچ 1986:
جگموہن نے غلام محمد شاہ کو وزارت ِ اعلیٰ سے برخاست کرتے ہوئے خود اختیارات سنبھال لیے اور مسلمانوں کی سرکاری نوکریوں پر پابندی لگا دی ۔
23 مارچ 1987:
مسلم یونائیٹڈ فرنٹ جو کہ ایک مقبول جماعت تھی اس نے انتخابات میں حصہ لیا مگر کانگریس اور مسلم کانفرنس کا اتحاد جیت گیا جس پر دھاندلی کے الزامات لگے اور فاروق عبداللہ کی غیر مقبول حکومت کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے ۔
1989:
بھارتی حکمرانی کے خلاف مسلح تحریک شروع ہو گئی جس کی قیادت مسلم یو نائیٹڈ فرنٹ کے ممبران کر رہے تھے سال کے ایک تہائی دنوں میں ہڑتالیں رہیں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا گیا اور ٹرن آؤٹ صرف پانچ فیصد رہا ۔
1990:
بغاوت جاری رہی ۔پاکستان سے بڑی تعداد میں مجاہدین وادی میں داخل ہو گئے ۔
20 جنوری 1990:
جگموہن سنگھ کو گورنر تعینات کرنے کے اگلے روز بھارتی پیرا ملٹری ریزرو پولیس فورس نے گوکدل میں نہتے مظاہرین جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے ان پر گولی چلا دی ا س قتل عام کے خلاف پورے کشمیر میں پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے ۔
یکم مارچ 1990:
سری نگر میں اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ کے دفتر کے سامنے پانچ لاکھ سے زائد کشمیریوں نے مارچ کیا جنہوں نے کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری کا مطالبہ کیا۔جس پر بھارتی فوج نے مظاہرین پر دو مقامات پر فائرنگ کر دی ۔ذکورا کراسنگ میں 26 اور تنگ پورہ بائی پاس پر 21 شہری مارے گئے ۔جس پر کشمیر میں 162،500 ہندو کمیونٹی کو نکال کر جموں میں پناہ گزین کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔
30 مارچ 1990:
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما اشفاق وانی کے جنازے میں بہت بڑا اجتماع ہوا ۔
6 جنوری 1993:
بھارتی بارڈر سیکورٹی پولیس نے عسکریت پسندوں کے ایک حملے کا بدلہ لینے کے لیے سوپور میں 55 شہریوں کو ہلاک کر دیا۔
مارچ 1993:
سیاسی، سماجی اور مذہبی گروپوں پر مشتمل آل پارٹیز حریت کانفرنس نے حق خود اختیاری کا مطالبہ کیا ۔
1998:
پاکستان اور بھارت دونوں کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے تجربات
21 فروری 1999:
بھارتی وزیر ا عظم اٹل بہاری واجپائی اور پاکستانی وزیر اعظم نوازشریف نے اعلان لاہور پر دستخط کئے جس کے تحت کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا اعادہ کیا گیا۔
مئی – جولائی 1999:
پاکستان وبھارت کے درمیان کارگل جنگ چھڑ گئی ۔
2000:
ایک دہائی سے جاری کشمیر میں عسکری تحریک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی جس میں پر امن اور غیر متشدد طریقے اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو گئے۔ کشمیر کے مسئلے پر بھی اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات کئے گئے اگرچہ ان میں تعطل آتا رہا اور دونون ممالک کشمیر میں کسی تصفیہ پر متفق نہیں ہو سکے ۔
11 مارچ 2001:
اقوام ِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے دونوںممالک کو اعلانِ لاہور کے تحت آگے بڑھنے کا مشورہ دیا جس پر جولائی 2001 میں مشرف اور واجپائی کے درمیان آگرہ میں ملاقات ہوئی مگر کوئی اعلان جاری نہ ہو سکا ۔
اکتوبر 2001:
کشمیر اسمبلی سری نگر پر حملے کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک۔
دسمبر 2001:
بھارتی پارلیمنٹ پر نئی دہلی میں حملہ ، لشکر طیبہ اور جیش محمد نے ذمہ داری قبول کی۔
2004-2007:
مسئلہ کشمیر پر بیک چینل روابط کے ذریعے دونوں ممالک نے کشمیری قیادت کے ساتھ مزاکرات کئے
اپریل 2005:
مظفر آباد سری نگر بس سروس شروع ہوئی ۔
مئی 2008:
بھارتی حکومت اور جموں و کشمیر کی حکومت کی جانب سے ہندو شری امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف کشمیر بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے جو جو کہ 1990 کے بعد سب سے بڑے مظاہرے تھے مسلح پولیس نے مظاہرین پر فائر نگ کی اور کشمیر اور بھارت کو ملانے والی سڑک بلاک ہو کر رہ گئی۔
21 فروری 2009:
بومائی میں بھارتی فوج نے دو عبادت گزاروں کو جان بوجھ کر گولی مار دی جس پر بومائی اور ملحقہ علاقوںمیں مظاہرے شروع ہو گئے جس پر کرفیو لگانا پڑا۔
29-30 مئی 2009:
دو خواتین 22سالہ نیلوفرجان اور 17 سالہ عائشہ جان کو شوپیاں میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
جون 2009:
کشمیر بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے جنہوں نے سینٹرل پولیس ریزرو فورس کو زیادتی اور قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا جس پر شوپیاں میں کرفیو لگا دیا گیا۔
30 اپریل 2010:
ماشیل سیکٹر میں بھارتی فوج نے تین عسریت پسندوں کو لائن آف کنٹرول کرا س کرنے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ مقابلہ فرضی تھا اور مرنے والے تینوں عام کشمیری تھے اور انہیں صرف اس لیے مارا گیا کہ ان کے قتل کے عوض وہ کیش انعام حاصل کر سکیں ۔
11 جون 2010:
17 سالہ ظفیل احمدمٹو جو سکول سے گھر آ رہا تھا اس وقت ہلاک ہو گیا جب آنسو گیس کا ایک شیل اس کے قریب آ کر سر پر مارا گیا ۔اس کے نتیجے میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑے جس سے نمٹنے کے کئے کرفیو لگا کر سینکڑوں کشمیریوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
اگست 2011:
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ان 1200 نوجوانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جو کہ گزشتہ سال حکومت کے خلاف مظاہروں میں سیکورٹی فورسز پر پتھر پھینکنے میں ملوث تھے ۔بھارت کے ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن نے لائن آف کنٹرول کے قریب ایسی اجتماعی قبروں کی نشاندہی کی جہاں 2000 کے قریب نامعلوم لوگ دفنائے گئے تھے خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں وہ کارکن بھی شامل تھے جنہیں بھارتی فوجوں نے گرفتار کر رکھا تھا یا جنہیں غائب کر دیا گیا تھا۔1989 سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے تھے ۔
فروری 2013:
کشمیری جیش محمد کے کارکن محمد افضل گرو جن پر 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا الزام تھا انہیں پھانسی دیئے جانے کے خلاف وادی میں مظاہرے ہوئے جن کے نتیجے میں دو افراد ہلاک کر دیئے گئے ۔
ستمبر 2013:
پاکستان و بھارتی وزرائے اعظم کی ملاقات میں لائن آف کنٹرول کے آر پار تشدد کو کم کرنے پر اتفاق
اگست 2014:
بھارت نے یہ کہہ کر پاکستان سے مذاکرات ختم کر دیئے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرت کئے تھے ۔
اکتوبر 2014:
پاکستان اور بھارت میں سرحدوں پر کشیدگی ، دونوں طرف 18 ہلاکتوں کی تصدیق۔
مارچ 2015:
تاریخ میں پہلی بار بی جے پی نے کشمیر میں مقامی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور مفتی محمد سعید کو وزیراعلیٰ چنا گیا۔
ستمبر 2015:
کشمیر میں مسلمانوں نے بڑے گوشت پر پابندی کے خلاف اپنی دوکانیں اور تجارتی مراکز بند کئے۔
اپریل 2016:
محبوبہ مفتی اپنے باپ مفتی سعید کے بعد کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بنیں۔
جولائی 2016:
حزب المجاہدین کے سرکردہ کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا۔
اگست 2016:
وادی میں جاری 50 روزہ کرفیو میں نرمی کی گئی ۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں مظاہروں اور تشدد کی لہر کے نتیجے میں 68 شہری ہلاک اور 9000 لوگ زخمی ہوئے۔
ستمبر 2016:
کشمیر میں ایک فوجی بیس پر حملے کے نتیجے میں 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور بھارت میں دھمکیوں کا تبادلہ۔
نومبر 2016:
لائن آف کنٹرول پر جھڑپ میں سات پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد آزاد کشمیر میں ایل او سی پر بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ مامات پر منتقل کیا گیا۔
مئی 2017:
حریت کمانڈر سبزار احمد بھٹ کی نماز جنازہ میں شمولیت کے لیے ہزاروں لوگوں نے کرفیو کو توڑ ڈالا۔
جولائی 2017:
ہندو یاتریوں پر حملے کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔
14 فروری 2019:
پلواما میں ایک خود کش حملے کے نتیجے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔
21 فروری 2019:
بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی۔
26 فروری 2019:
بھارت نے بالا کوٹ میں مجاہدین کے ایک کیمپ پر فضائی حملہ کیا اور کئی مجاہدین کو مارنے کا دعویٰ کیا۔
27 فروری 2019:
پاکستان نے بھارت کے دو طیاروں کو مار گرایا اور ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔
5 اگست 2019:
بھارتی حکومت نے آئین میں سے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا جو کہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا ۔اس طرح کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کر دیا گیا۔
16 اگست 2019:
1965 کے بعد پہلی بار کشمیر کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔
